
بدھ کے روز نیپال میں دریائے بھوٹیکوشی میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے تین اضلاع میں بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔ اس آفت کے نتیجے میں 160 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں، غیر ملکی سیاحوں اور مقامی شہریوں سمیت سینکڑوں لوگ اب بھی لاپتہ ہیں۔
سیلاب نے سڑکوں، پلوں، بجلی کے ڈھانچے اور آبادی والے علاقوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس سے بھاری جانی و مالی نقصان ہوا۔ حکام کے مطابق یہ حالیہ برسوں میں نیپال میں آنے والی بدترین قدرتی آفات میں سے ایک ہے۔
نیپال کے سیاحتی بورڈ کے مطابق لاپتہ سیاحوں میں انڈیا کے 100 سے زائد، امریکہ کے 54، آسٹریلیا کے 34 اور برطانیہ کے 33 شہری شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 100 سے زیادہ نیپالی شہری بھی لاپتہ ہیں۔ یہ علاقہ زائرین اور ٹریکنگ کرنے والوں میں بہت مقبول ہے۔
تبت میں چینی سرکاری میڈیا نے تین افراد کی ہلاکت. اور 265 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی ہے۔ تبت سے سامنے آنے والی سی سی ٹی وی ویڈیوز. میں سرحدی گزرگاہ پر. پانی اور کیچڑ کا ایک بڑا ریلا عمارتوں سے ٹکراتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
سیلاب
درجنوں نیپالی پولیس اہلکار. فوجی جوان اور بجلی کے محکمے کے ملازمین بھی لاپتہ ہیں۔ ایک خاتون نے بتایا، ’میرا خاندان میری آنکھوں کے سامنے سیلاب میں بہہ گیا۔‘ انہوں نے اور ان کے بیٹے نے. ایک عمارت کی چھت پر چڑھ کر اپنی جان بچائی۔
حکام نے ابتدا میں شبہ ظاہر کیا تھا کہ ممکن ہے. سیلاب سے پہلے زلزلہ آیا ہو، تاہم امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق بعد میں پتا چلا کہ زلزلے جیسی سرگرمی دراصل لینڈ سلائیڈنگ کے باعث پیدا ہوئی تھی۔
نیپال پولیس کے مطابق بدھ کے روز آنے والے سیلاب میں ہلاک ہونے والوں میں سے رات گئے تک 157 افراد کی لاشیں برآمد کر لی گئی تھیں۔ پولیس نے سوشل میڈیا کے ذریعے دی گئی معلومات میں بتایا. کہ ان میں سے 64 لاشیں ضلع چتوان سے ملی ہیں۔
پولیس کے مطابق تلاش اور امدادی کارروائیوں. کے لیے 3,318 اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
