امریکی خزانہ نے ین مارکیٹ میں تاریخی مداخلت کی

💬0

جاپانی کرنسی کو سہارا دینے کے لیے امریکہ کا بڑا قدم، تین دہائیوں میں پہلی مشترکہ کارروائی

جاپان اور امریکہ نے تصدیق کی ہے کہ گذشتہ ہفتے جب جاپانی کرنسی ین مزید کمزور ہو کر 40 برس کی نئی کم ترین سطح پر پہنچ گئی تھی تو دونوں ممالک نے اس کی قدر میں کمی روکنے کے لیے مشترکہ مداخلت کی۔

جاپان کی وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق امریکی محکمۂ خزانہ کے ساتھ مل کر جاپانی ین خریدا گیا۔

یہ سنہ 2011 کے بعد دونوں ممالک کی جانب سے اس نوعیت کی پہلی مشترکہ مداخلت ہے۔ اُس وقت مشرقی جاپان میں آنے والے تباہ کن زلزلے. اور سونامی کے بعد دونوں ملکوں نے باہمی رابطے سے ین کی قدر کم کرنے کے لیے اقدام کیا تھا۔

جاپان کی وزارتِ خزانہ اور امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ، دونوں نے کہا ہے. کہ وہ مستقبل میں بھی ایسے اقدامات سے گریز نہیں کریں گے۔

یہ اقدام دونوں ممالک کی ان کوششوں کو ظاہر کرتا ہے جن کا مقصد ین اور. جاپانی حکومتی بانڈز کی فروخت کے عالمی معیشت پر اثرات کو روکنا ہے۔

شرحِ سود

تاریخی طور پر ین کی کمزوری کی بنیادی وجہ یہ ہے. کہ جاپان میں مرکزی بینک کی شرحِ سود امریکہ جیسی بڑی معیشتوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ اس کی وجہ سے جاپانی کرنسی بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے کم پُر کشش ہو جاتی ہے۔

بینک آف جاپان نے جون میں شرحِ سود میں آخری بار اضافہ کیا تھا اور اپنی بنیادی شرح کو ایک فیصد تک پہنچا دیا تھا، جو ستمبر 1995 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ اس کے مقابلے میں امریکی فیڈرل ریزرو کی بنیادی شرحِ سود 3.50 فیصد سے 3.75 فیصد کے درمیان ہے۔

پیر کے روز جاپان کی وزارتِ خزانہ نے کہا کہ امریکی محکمۂ خزانہ کے. ساتھ جمعہ کی مداخلت نے ’حالیہ مہینوں میں جاپانی ین. کی قدر میں ضرورت سے زیادہ اتار چڑھاؤ اور غیر منظم نقل و حرکت کا مقابلہ کیا۔‘

سکاٹ بیسنٹ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’ہم ین کی نمایاں حد تک کم قدر کو درست کرنے کے لیے. جاپان کے فیصلہ کن مالیاتی اور مارکیٹ اقدامات کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’ان کی کرنسی ین کمزور ہو رہی تھی اور انھیں تھوڑی مدد درکار تھی۔ اور ہم ہمیشہ جاپان کے ساتھ ہوتے ہیں۔‘

بلند ترین سطح

ٹرمپ کے تبصروں کے بعد ڈالر کی قدر 0.2 فیصد کم ہو کر 157.07 ین پر آئی۔ یہ گذشتہ ماہ کی 40 سالہ بلند ترین سطح. 164 ین سے خاصی نیچے تھی، تاہم جاپانی وزارتِ خزانہ کے. بیان کے بعد ڈالر دوبارہ بڑھ کر 157.70 ین ہو گیا۔

بینک آف جاپان کے اعداد و شمار سے اشارہ ملتا ہے کہ ٹوکیو نے ممکنہ طور پر جمعرات کو تقریباً 59 ارب امریکی ڈالر فروخت کر کے ین خریدا تھا، جس کے بعد جمعہ کو واشنگٹن کے ساتھ مشترکہ مداخلت کی تصدیق کی گئی۔

امریکہ نے اپنی مداخلت کے حجم کی تصدیق نہیں کی، تاہم جمعہ کو کابینہ کے ایک اجلاس کے دوران سکاٹ بیسنٹ کے سامنے موجود ایک نوٹ پیڈ کی (خبر رساں ادارے) روئیٹرز کی تصویر میں یہ عبارت دیکھی گئی: ’کرنے والے کام، پانچ تا 10 ارب ڈالر مالیت کے جاپانی ین خریدنے ہیں۔‘

تبصرہ کريں

آپکی ای ميل پبلش نہيں نہيں ہوگی.