
صوبہ خیبر پختونخوا میں ایلیمنٹری اور سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق پشاور میں سکول کی چھت گِرنے کے واقعے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
اس سلسلے میں جاری کردہ ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی. کی سربراہی پرائیویٹ سکول ریگولیٹری اتھارٹی کے سربراہ جاوید اقبال کریں گے۔
اس کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی ان حقائق اور حالات کا تعین کرے گی. جن کے نتیجے میں پشاور کی دیر کالونی میں کلاس روم کی چھت گِری۔ ’واقعے کے اسباب کا تعین کیا جائے گا اور یہ بھی معلوم کیا جائے گا. کہ آیا اس میں کسی قسم کی غفلت، تعمیراتی خامی یا کوئی اور وجہ شامل تھی۔‘
اس کے علاوہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مناسب سفارشات مرتب کرے گی۔
انتہائی خستہ حالت
دریں اثنا پشاور میں ایک سینئر پولیس افسر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سکول کی عمارت ’طلبہ کا وزن برداشت نہیں کر سکی اور منہدم ہو گئی۔‘
پشاور کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (آپریشنز) فرحان احمد نے کہا کہ دیر کالونی میں واقع الخیر سکول ’انتہائی خستہ حالت میں تھا۔‘
پولیس حکام کا اندازہ ہے کہ سکول میں تقریباً 300 طلبہ زیرِ تعلیم تھے، جبکہ عمارت گرنے سے متاثر ہونے والے تین کلاس رومز میں تقریباً 100 طلبہ موجود تھے۔
فرحان احمد نے کہا کہ پولیس اس بات کی بھی تحقیقات کرے گی. کہ آیا اس عمارت کا پہلے کبھی معائنہ کیا گیا تھا یا نہیں۔
