
اسلام آباد – فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے پراپرٹی ڈویلپرز اور بلڈرز کی معاونت کے لیے نئے ریلیف اقدامات کا اعلان کیا ہے، جن کا مقصد ودہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ سرٹیفکیٹس کے حصول کے عمل کو آسان بنانا ہے۔
نئی ہدایات کے تحت ٹیکس حکام کو پابند کیا گیا ہے. کہ وہ ایسے ڈویلپرز کو، جو خصوصی ٹیکس نظام کے تحت اپنی تمام ٹیکس ذمہ داریاں پوری کر چکے ہوں. سات کام کے دنوں کے اندر استثنیٰ سرٹیفکیٹ جاری کریں۔
تازہ سرکلر کے مطابق اگر مکمل درخواست جمع کرا دی جائے اور تمام شرائط پوری ہوں لیکن متعلقہ کمشنر مقررہ مدت میں جواب نہ دے. تو استثنیٰ سرٹیفکیٹ خودکار طور پر آئی رس (IRIS) سسٹم کے ذریعے جاری کر دیا جائے گا.
یہ وضاحت انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 236 اور دفعہ 7 سے متعلق ہے۔ دفعہ 236 جائیداد کے لین دین پر ایڈوانس ٹیکس سے متعلق ہے. جبکہ دفعہ 7F بلڈرز اور ڈویلپرز کے لیے خصوصی ٹیکس نظام کو ریگولیٹ کرتی ہے. اس نظام کے تحت ڈویلپرز پر ٹیکس منافع کے بجائے مجموعی وصولیوں کے ایک مقررہ فیصد کی بنیاد. پر عائد کیا جاتا ہے۔
تحفظات
ڈویلپرز اس سے قبل دفعہ 236C کے تحت ودہولڈنگ ٹیکس کے اطلاق پر تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں. ان کا کہنا تھا کہ اس سے نقدی کے مسائل پیدا ہوتے ہیں. چونکہ دفعہ 7F کے تحت آمدن کو کاروباری آمدن تصور کیا جاتا ہے، اس لیے محدود قابلِ ٹیکس آمدن کے باعث ودہولڈ ٹیکس کو ایڈجسٹ کرنا مشکل ہو جاتا ہے. جس سے کیش فلو پر اضافی دباؤ پڑتا ہے۔
ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ وہ ڈویلپرز اور بلڈرز جنہوں نے دفعہ 7 کے تحت اپنی مکمل ٹیکس ذمہ داری ادا کر دی ہو اور ان کی کوئی دیگر قابلِ ٹیکس آمدن نہ ہو، وہ ایڈوانس ٹیکس سے استثنیٰ کے لیے درخواست دینے کے اہل ہیں۔
اہل درخواست دہندگان کو چاہیے کہ وہ انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 159 کے تحت اپنے متعلقہ کمشنر ان لینڈ ریونیو کو درخواست جمع کرائیں۔ ہر درخواست کا انفرادی طور پر جائزہ لیا جائے گا. اور فیصلہ قانونی تقاضوں کی تکمیل کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
