پاکستانی نژاد عثمان خواجہ کا بڑا انکشاف: ریٹائرمنٹ اعلان کے ساتھ نسلی امتیاز کی کہانی سنائی

عثمان خواجہ کا جذباتی ریٹائرمنٹ اعلان: ’پاکستانی نژاد مسلمان لڑکے کو آسٹریلیا کی ٹیم میں نہ کھیلنے کی بات کہی گئی، اب دیکھو میں کہاں ہوں‘

سڈنی: آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم کے پہلے مسلمان اور پاکستانی نژاد بلے باز عثمان خواجہ نے سڈنی ٹیسٹ کے بعد بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔ جمعرات کو سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں منعقدہ 50 منٹ طویل جذباتی پریس کانفرنس میں انہوں نے اپنے کریئر کی جدوجہد، نسلی تعصبات اور کامیابیوں کا کھل کر ذکر کیا۔

عثمان خواجہ نے کہا: "میں پاکستان سے تعلق رکھنے والا مسلمان لڑکا ہوں. جسے بتایا گیا تھا کہ وہ کبھی بھی آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے لیے نہیں کھیل پائے گا۔ اب میری طرف دیکھو۔”

39 سالہ بائیں ہاتھ کے اوپنر نے آسٹریلیا کی نمائندگی کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی قرار دیا، مگر ساتھ ہی تسلیم کیا کہ وہ آج بھی "نسلی دقیانوسی خیالات” اور امتیازی سلوک سے لڑ رہے ہیں۔

انہوں نے ایشز سیریز کے دوران پیش آنے والے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے. کہا کہ پہلے ٹیسٹ سے ایک روز قبل جب وہ گالف کھیلنے گئے. اور بعد میں کمر میں تکلیف ہو گئی. تو میڈیا نے ان پر شدید تنقید کی۔ عثمان خواجہ نے شکوہ کیا: "مجھ پر تنقید کی گئی. کیونکہ میرے ساتھ مختلف سلوک کیا جاتا ہے۔”

تنقید

پرتھ ٹیسٹ سے پہلے میڈیا اور سابق کھلاڑیوں کی جانب سے کی گئی. تنقید کو یاد کرتے ہوئے. انہوں نے کہا کہ انہیں "سست” اور "خود غرض” جیسے القابات دیے گئے، جو ان کے لیے "بہت افسوسناک” تھا۔

عثمان خواجہ اپنا 88واں اور آخری ٹیسٹ میچ سڈنی میں ہی کھیلیں گے—وہی گراؤنڈ جہاں 15 سال قبل 2011 میں انگلینڈ کے خلاف انہوں نے ٹیسٹ ڈیبو کیا تھا۔

اپنی اہلیہ اور دونوں بیٹوں کے ہمراہ پریس کانفرنس میں انہوں نے اپنے کریئر کے اتار چڑھاؤ، مشکلات اور فتوحات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ ان کی ریٹائرمنٹ آسٹریلیائی کرکٹ کے لیے ایک اہم دور کے اختتام کی علامت ہے۔

عثمان خواجہ نے اپنے کیریئر میں 88 ٹیسٹ میچز میں آسٹریلیا کی نمائندگی کی. اور متعدد تاریخی کامیابیاں حاصل کیں، جن میں 2019-20 میں ایشز میں شاندار کارکردگی بھی شامل ہے۔ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد آسٹریلیا کی ٹیسٹ ٹیم. ایک تجربہ کار اوپنر سے محروم ہو جائے گی۔

تبصرہ کريں

آپکی ای ميل پبلش نہيں نہيں ہوگی.