
متحدہ عرب امارات نے کئی دہائیوں کی رکنیت کے بعد اوپیک سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ملک کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اپنے "قومی مفادات” کو ترجیح دینے اور اپنا الگ راستہ اختیار کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
ماہرین اس اقدام کو ویانا میں قائم تیل پیدا کرنے والے گروپ کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دے رہے ہیں، تاہم ان کا خیال ہے کہ اس سے اوپیک کا مکمل خاتمہ نہیں ہوگا۔
متحدہ عرب امارات کا یہ فیصلہ اوپیک کی اس پالیسی سے کئی سال کی کھلی ناراضگی کے بعد سامنے آیا ہے. جس کے تحت گروپ اراکین کی پیداوار پر پابندیاں لگا کر عالمی تیل کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور مارکیٹ کو مستحکم رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
متحدہ عرب امارات نے 2027 تک اپنی تیل کی پیداواری صلاحیت کو 3 ملین سے. بڑھا کر 5 ملین بیرل یومیہ کرنے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے. پیداواری صلاحیت میں اضافے کے ساتھ ہی. ملک اوپیک سے اپنے لیے زیادہ کوٹہ ( پیداوار کی حد) کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔
توانائی کے بحران
یہ فیصلہ ایک نہایت نازک وقت پر سامنے آیا ہے. جب خطے اور پوری دنیا. امریکا اور اسرائیل کی ایران پر جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والے توانائی کے بحران سے دوچار ہے۔ یہ جنگ 28 فروری کو شروع ہوئی تھی۔ ایران نے جواب میں اسرائیل، امریکا کے فوجی اڈوں. اور خلیجی ممالک. کے انفراسٹرکچر پر حملے کیے. اور آبنائے ہرمز کی زیادہ تر رسائی بند کر دی۔ یاد رہے کہ عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کی 20 فیصد سپلائی اسی آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے۔
جنگ سے پہلے متحدہ عرب امارات نے. اپنی پیداواری صلاحیت 4.8 ملین بیرل یومیہ تک بڑھا لی تھی، لیکن اوپیک معاہدے کے تحت اسے صرف 3.2 ملین بیرل یومیہ ہی پیدا کرنے کی اجازت تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے. کہ اوپیک سے UAE کے خروج کا عالمی مارکیٹ پر فوری طور پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا. کیونکہ اس کی برآمدات. — دیگر خلیجی ممالک کی طرح — فی الحال ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کی وجہ سے محدود ہیں۔
