حکومت تنخواہ دار طبقے کیلئے ریلیف کے پر غور کر رہی ہے: بلال اظہر کیانی

💬0

کراچی: وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا ہے. کہ تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے اور ریٹیل و ہول سیل شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لا کر ٹیکس بنیاد کو وسیع کرنے سے متعلق تجاویز آئندہ بجٹ کی تیاری کے عمل میں زیرِ غور لائی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت جاری بجٹ مشاورت کے دوران چیمبرز آف کامرس اور صنعت سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز کی تعمیری آراء کو اہمیت دیتی ہے۔

19 اپریل کو ہونے والے. ایک اجلاس میں اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (OICCI) کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کا جائزہ لیتے ہوئے وزیر نے سرمایہ کاری کے لیے. سازگار مالیاتی ماحول برقرار رکھنے. کی اہمیت کو تسلیم کیا۔ انہوں نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو یقین دہانی کرائی. کہ حکومت اقتصادی ترقی کے فروغ کے لیے ٹیکس ڈھانچے کو سادہ اور مؤثر بنانے کی ضرورت کو سمجھتی ہے۔

او آئی سی سی آئی نے اس بات پر زور دیا کہ ایک منصفانہ ٹیکس نظام تشکیل دیا جائے جس میں معیشت کے تمام شعبے — بشمول زراعت، ریٹیل و ہول سیل تجارت، رئیل اسٹیٹ اور خدمات — قومی آمدن میں متناسب حصہ ڈالیں۔

کارپوریٹ ٹیکس

چیمبر نے تجویز دی کہ مالی سال 2027 میں کارپوریٹ ٹیکس. کی شرح 28 فیصد تک کم کی جائے. اور آئندہ تین برسوں میں اسے مرحلہ وار 25 فیصد تک لایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسی مدت میں سپر ٹیکس کے تدریجی خاتمے کی بھی سفارش کی گئی۔ او آئی سی سی آئی. کے مطابق جب کارپوریٹ ٹیکس کو سپر ٹیکس، ورکرز ویلفیئر فنڈ (WWF) اور ورکرز پرافٹ پارٹیسپیشن فنڈ (WPPF) کے ساتھ ملا دیا جائے تو کمپنیوں پر مؤثر ٹیکس بوجھ تقریباً 46 فیصد تک پہنچ جاتا ہے، جس سے پاکستان کی علاقائی مسابقت متاثر ہوتی ہے۔

او آئی سی سی آئی نے کہا کہ بینکاری شعبے پر زیادہ ٹیکس بوجھ اقتصادی ترقی کو محدود کر سکتا ہے کیونکہ اس سے بینکوں کی سرمایہ مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے، جبکہ کاروبار کے لیے ورکنگ کیپیٹل کی لاگت بڑھتی اور دستیابی کم ہوتی ہے۔

چیمبر نے سفارش کی کہ زیادہ آمدن والے تنخواہ دار افراد پر عائد. 10 فیصد سرچارج ختم کیا جائے. اور ذاتی آمدن پر زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 25 فیصد تک محدود کی جائے۔

تبصرہ کريں

آپکی ای ميل پبلش نہيں نہيں ہوگی.