
خلیج تعاون کونسل (جی سی سی). کے رکن ممالک سیاحوں کے لیے علاقائی سطح پر یورپی یونین. کے شینگن طرز کا ویزا جاری کرنے کے منصوبے کا جائزہ لے رہے ہیں۔
اس اقدام سے اقتصادی ترقی کو مزید فروغ ملنے کی توقع ہے۔
العربیہ اردو کے مطابق متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی. میں منعقدہ عرب ٹریول مارکیٹ (اے ٹی ایم) میں بحرین کی وزیرسیاحت فاطمہ السیرافی نے ایک پینل گفتگو میں کہا. کہ ’ہمارے ممالک اس بات پر غور کر رہے ہیں. کہ کس طرح ایک مشترکہ اور واحد ویزا جاری کیا جاسکتا ہے۔‘
انہوں نےکہا کہ ’یہ بہت جلد ہوسکتا ہے کیوں کہ ہم دیکھتے ہیں. کہ بیرون ملک سے یورپ جانے والے لوگ عام طور پر ایک ملک کے بجائے کئی ممالک میں اپنا وقت گزارتے ہیں. ہم نے واقعی دیکھا. کہ یہ ہر ملک کے لیے نہیں بلکہ ہم سب. کے لیے کیا اہمیت لا سکتا ہے۔‘
خطے کے متعدد ممالک
سعودی سیاحت اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) فہد حمید الدین نے پینل میں وضاحت کی کہ اگر مشترکہ ویزا نظام اپنایا جاتا ہے تو مستقبل میں مسافر کسی ایک ملک کے بجائے خطے کے متعدد ممالک کا دورہ کرسکتے ہیں اور مجھے یقین ہے. کہ کل کے مسافر ہمیشہ مختلف سٹاپوں، راستوں اور علاقوں کو دیکھیں گے۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت اقتصادیات کے انڈر سیکریٹری عبداللہ الصالح نے کہا کہ پورے خطۂ خلیج میں ترقی کو آسان بنانے کے لیے جامع قواعدو ضوابط، پالیسیوں اورطریق کار سے فائدہ ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’جی سی سی ممالک کا ماننا ہے. کہ اگر وہ اس خطے میں آنے والے زائرین خاص طور پرلمبا سفر کرنے کے خواہاں زائرین کو اچھا تجربہ مہیا کرتے ہیں. توان زائرین کا ایک ملک کا دورہ کرنے کے بجائے خطے کے ایک سے زیادہ ممالک کی سیر کا پروگرام ہوگا۔‘
الصالح کے مطابق: ’زائرین کوکسی پابندی کے بغیر متعدد ممالک کا دورہ کرنے، سرحد پار سفر کی سہولت دینے اورجی سی سی کے مختلف ممالک کی سیر کا ایک پیکج مقرر کرنے سے زیادہ خوشی ہوگی۔‘
جی سی سی کے رکن ممالک میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین، عُمان اور قطر شامل ہیں۔
عربین ٹریول مارکیٹ دنیا میں معروف، بین الاقوامی سفر اور سیاحتی ایونٹ ہے. جو مشرق وسطیٰ کے اندر اندر اور باہر جانے والے سیاحت کے پیشہ ور افراد کے لیے کاروباری امکانات کو بڑھاتا ہے۔
دنیا بھر کے سیاحتی مقامات شو میں اپنے برانڈ اور نمائش کے ساتھ رہائش اور مہمان نوازی، مشہور سیاحتی مقامات اور پرکشش مقامات، جدید سفری ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے اور ایئر لائنز کے بڑے ناموں کے ساتھ نمائش کرتے ہیں۔
ویزہ سٹیکر ختم
سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے سات ممالک میں ویزا سٹیکروں کی جگہ الیکٹرانک ویزے متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔
وزارت نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے. کہ متحدہ عرب امارات. اردن، مصر. بنگلہ دیش، بھارت، فلپائن اور انڈونیشیا میں مملکت کے سفارتی مشنوں میں یکم مئی سے. کیوآرکوڈ کے ساتھ ای ویزا کے استعمال کا نیا اقدام نافذالعمل ہوچکا ہے۔
اس نے مزیدکہا ہے. کہ ’یہ اقدام ویزا کے حصول کے طریق کارکو خودکار. بنانے اور وزارت کی طرف سے مہیا کی جانے والی قونصلر خدمات کے معیار کو بہتر بنانےکے ساتھ ساتھ کام، اقامتی اور سیاحتی یا وزٹ ویزا جاری کرنے کے. میکانزم کوتیار کرنےکی کوششوں کا حصہ ہے۔‘
سعودی عرب نے حال ہی میں ویزا کے طریق کار میں تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں اور ویزا قوانین میں نرمی کی ہے. جس سے زیادہ سے زیادہ سیاحوں اور غیرملکی کاروباری اداروں. کو مملکت میں آنے کے لیے راغب کیا جا رہا ہے۔

Crags list eroticTina turner sex sceneMuseum asian artCurvy teen womanActress geetha picture sexyWorking latinas housekeeping double pleasureHemmroids and sexual activityJapanese sex talkAsian dub foundation stopMoms
slut load xnxx Penis modification extremeCum drenched info picture rememberTeen futanari fakes videoGay male clubwearChubby women nakedBig booty latina cutie gets
fuckedMacy sky nakedXhamster sexy toe suck https://xnxxmega.com/ Gay bare chested menDesigirl office sexVintage pahuCeleb
pic nude to britney spearsNewburgh porn starNude
figure studies robbs oopsAnal free insertion trailer videoPics of ryan sheckler
nudeHot teen getting fingeredSex doll mannequins xnxx Masturbation technique for teensTeen pussy alleriesMeg tillie nudeMilf and young pornGenelia nude photosLyrics to keep taking it by clete ft pleasure
pTeen marlboro red smokerInterracial swing mobile alabamaFuck fredrik sigurdTransgendered dateNude teen girldAdult japanese gameshow videosAmateur lesbians havuing sexThat
teen show 2 – peer pressureRenee zelwegger nakedWoman getting fucked in nfl jerseyRussell receive
st cloud bisexualDoes mahlia milan do anal
Reading this gave me a small sense of progress on a topic I have been slowly working through, and a stop at seacovevault added another step forward, learning happens in small increments across many sources and finding sources that consistently contribute is the actual practical value of careful curation in an information rich world.