
گلاسگو میں منعقد ہونے والے کامن ویلتھ گیمز میں شرکت کرنے والے متعدد کھلاڑی لاپتہ ہو گئے ہیں اور اپنی ٹیموں کے دیگر ارکان کے ساتھ اپنے وطن واپس نہیں گئے۔
سکاٹ لینڈ پولیس کے مطابق اتوار کو گیمز کے اختتام پذیر ہونے کے بعد متعدد کھلاڑیوں کے بارے میں اطلاع ملی ہے. کہ ان کا سراغ نہیں مل رہا۔
پاکستان کے مقامی ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق باکسر قدرت اللہ پاکستان واپس جانے والی پرواز میں اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ سوار نہیں ہوئے اور جب حکام انھیں تلاش کرنے گئے تو وہ اپنے کمرے میں نہیں ملے۔
ادھر باکسنگ فیڈریشن کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ وہ شیڈول کے تحت واپس نہیں آئے. مگر انھیں امید ہے. کہ ویزے کی مدت مکمل ہونے سے پہلے پاکستان واپس آ جائیں گے۔
انکوائری
بی بی سی نے اس معاملے پر موقف جاننے کے لیے پاکستان سپورٹس بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل یاور حسین سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے. جس کی رپورٹ تین روز میں جاری کی جائے گی۔
اب تک کی اطلاعات یہی ہیں کہ قدرت اللہ کامن ویلتھ گیمز کے لیے بھیجے گئے. دیگر پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ وطن واپس نہیں آئے۔ واپس آنے والے ایتھلیٹس میں باکسر فاطمہ زہرہ بھی شامل ہیں جنھوں نے پہلی بار پاکستان کے لیے کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔
دریں اثنا سپورٹس ویب سائٹ این بی ایس سپورٹس کے مطابق یوگنڈا کی باکسنگ ٹیم کے چار ارکان بھی وطن واپسی کی پرواز میں سوار نہیں ہوئے۔ ویب سائٹ کے مطابق ٹیم کے ایک رکن نے بتایا ہے. کہ یہ کھلاڑی سکاٹ لینڈ میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
اس سے پہلے ہونے والی کامن ویلتھ گیمز، جن میں 2014 کا وہ ایڈیشن بھی شامل ہے. جو گلاسگو میں منعقد ہوا تھا، کے بعد بھی درجنوں کھلاڑی لاپتہ ہو گئے تھے۔ ان میں سے بعض نے بعد میں پناہ کی درخواست دی. جبکہ بعض مکمل طور پر غائب ہو گئے۔
