خلیجی سرمایہ کاروں نے کے-الیکٹرک تنازع پر پاکستان کے خلاف 2 ارب ڈالر کا ثالثی کیس دائر کر دیا

الیکٹرک

اسلام آباد: سعودی اور کویتی سرمایہ کاروں نے کے-الیکٹرک (کے ای) میں اپنے مالی حقوق کو نقصان پہنچانے کا الزام پاکستان کی پاور ڈویژن (بشمول متعلقہ وزیر)، اور نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) پر عائد کر دیا ہے۔

یہ الزامات 2 ارب ڈالر کے بین الاقوامی ثالثی کیس کا حصہ ہیں. جو عبدالعزیز حمد اے الجومیح، کمبائنڈ نیشنل انڈسٹریز ہولڈنگ کمپنی فار انرجی کے ایس سی، اور دیگر نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے. خلاف شروع کیا ہے۔

ثالثی کا نوٹس بین الاقوامی. قانون فرموں سٹیپٹو (Steptoe) اور اومنیا .(Omnia) کی جانب سے پاکستان کے اٹارنی جنرل منصور علی خان اور اٹارنی جنرل آفس کے انٹرنیشنل ڈسپیوٹس یونٹ کے. سربراہ سمیر سراج خان کو بھیجا گیا ہے۔

نوٹس

اس نوٹس کی نقلیں وزیراعظم، وزیر خزانہ و محصولات، وزیر توانائی (پاور ڈویژن)، وزیر قانون و انصاف، وفاقی وزیر نجکاری، اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن. کونسل (SIFC) کے سیکرٹری، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر، اور کے-الیکٹرک لمیٹڈ. کے سیکرٹری رضوان پسنانی کو بھی فراہم کی گئی ہیں۔

ثالثی نوٹس کے مطابق مدعیان (الجومیح اور دیگر) نے یہ ثالثی کوئی ہلکی پھلکی بات سمجھ کر شروع نہیں کی۔ انہوں نے خلاف ورزیوں کے وقت ہی ملکی قوانین کی خلاف ورزیوں کے بارے میں نوٹسز جاری کیے تھے. اور ریاست کو ان خامیوں کو دور کرنے کا ہر موقع دیا تھا. تاہم نوٹس میں کہا گیا ہے. کہ ریاست نے بار بار کارروائی میں تاخیر کی، بغیر کسی وضاحت کے فیصلے واپس لیے، یا بالکل کوئی ایکشن نہیں لیا۔

تبصرہ کريں

آپکی ای ميل پبلش نہيں نہيں ہوگی.