
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے منگل کو سندھ طاس معاہدے (آئی ڈبلیو ٹی) کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو پانی کے جائز حصے سے محروم کرنے کی کوششوں کے علاقائی امن اور سلامتی پر "سنگین اثرات” ہوں گے۔
وزارت خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم پاکستان کی آسٹریا میں سفارت خانے کی جانب سے. ویانا کی ڈپلومیٹک اکیڈمی کے اشتراک سے منعقدہ انٹرنیشنل واٹر سمپوزیم سے خطاب کر رہے تھے۔
پانی اور سندھ طاس معاہدہ بھارت اور پاکستان کے درمیان متنازع مسئلہ بنا ہوا ہے، جب نئی دہلی نے گزشتہ سال اپریل میں مقبوضہ کشمیر میں سیاحوں پر حملے کے بعد معاہدے کو یک طرفہ طور پر معطل کر دیا تھا۔ اس پیش رفت کے بعد مئی 2025 میں دونوں فریقوں کے درمیان مختصر عسکری تصادم بھی ہوا۔
ویڈیو پیغام کے ذریعے کلیدی خطاب میں ڈار نے زور دیا کہ سندھ طاس معاہدے. اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے حقوق اور مفادات کے. تحفظ کے پاکستان کے عزم کے بارے میں "کوئی غلط فہمی” نہیں ہونی چاہیے۔
مختص پانی
انہوں نے کہا: "پاکستان کو جائز طور پر مختص پانی سے محروم کرنے. کی کوئی بھی کوشش علاقائی امن اور سلامتی کے لیے سنگین نتائج کی حامل ہوگی۔”
ڈار نے زور دیا کہ پانی انسانی بقا، خوش حالی اور ماحولیاتی استحکام کے لیے. بنیادی حیثیت رکھتا ہے، اور نشاندہی کی کہ اس کی دستیابی ریاستوں کے درمیان تعلقات کے استحکام کا تعین کرنے لگی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرحد پار دریائی نظاموں میں شریک ممالک کے لیے جغرافیہ "مستقل باہمی انحصار” پیدا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا: "لہٰذا بنیادی سوال یہ ہے. کہ مشترکہ پانی. تعاون اور متفقہ قانونی فریم ورک کے تحت چلایا جائے گا، یا سیاسی دباؤ اور تصادم کا آلہ بنے گا۔”
نائب وزیراعظم نے مزید کہا کہ خاص طور پر پاکستان کے. لیے پانی کی سلامتی غذائی تحفظ سے جدا نہیں، کیونکہ سندھ دریائی نظام کا پانی ملک کے 25 کروڑ سے زائد افراد کی زندگی اور روزگار کا سہارا ہے۔
انہوں نے اجاگر کیا. کہ یہ پانی زراعت، غذائی تحفظ، توانائی کی پیداوار، معاشی ترقی اور زندگی کو سہارا دینے. والے ماحولیاتی نظاموں کو قائم رکھتا ہے۔
نائب وزیراعظم ڈار نے زور دیا: "ان پانیوں پر پاکستان کے حقوق کو کمزور کرنے کی کوئی بھی کوشش ایسے نتائج کی حامل ہے جو دو طرفہ اختلاف سے کہیں آگے تک پھیلتے ہیں۔”
