
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہاتھی ایک دوسرے سے کیسے مخاطب ہوتے ہیں؟ اگر نہیں تو سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں اس کا جواب ڈھونڈ نکالا ہے۔
ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ہاتھی ایک دوسرے کو پکارنے کے لیے. مخصوص نام استعمال کرتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے انسان ایک دوسرے کو نام لے کر مخاطب کرتے ہیں۔
برطانوی اخبار کے مطابق ڈولفن اور طوطوں کو بھی اپنی نسل کے دوسرے جانوروں کی آوازوں کی نقل کرتے ہوئے. ایک دوسرے کو مخاطب کرتے دیکھا گیا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ ہاتھی پہلے ایسے غیر انسانی جانور ہیں. جن کے بارے میں معلوم ہوا ہے. کہ وہ آواز کی نقل کیے بغیر ایک دوسرے کے لیے مخصوص نام استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق کے مرکزی مصنف مائیکل پارڈو نے بتایا ہے. کہ یہ تحقیق ناصرف ظاہر کرتی ہے. کہ ہاتھی ہر فرد کے لیے مخصوص آوازیں استعمال کرتے ہیں، بلکہ یہ بھی کہ وہ اپنے لیے کی جانے والی پکار کو پہچانتے اور اس پر ردِعمل دیتے ہیں، جبکہ دوسروں کے لیے کی جانے والی پکار کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
کولوراڈو اسٹیٹ یونیورسٹی سے وابستہ ماہرِ حیوانی رویّہ جات نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے. کہ ہاتھی محض آواز سن کر یہ تعین کر سکتے ہیں کہ آیا یہ پکار ان ہی کے لیے کی گئی ہے، چاہے وہ آواز اپنے اصل سیاق و سباق سے ہٹ کر ہی کیوں نہ سنائی جائے۔
