2026 کا واحد خون آلود چاند: مکمل قمری گرہن 3 مارچ کو، یہ موقع مت گنوائیں

رواں سال کا واحد مکمل چاند گرہن، جسے ’’بلڈ مون‘‘ بھی کہا جاتا ہے، منگل 3 مارچ 2026 کو رونما ہوگا۔ یہ فلکیاتی مظہر مغربی شمالی امریکا میں مکمل طور پر دیکھا جا سکے گا، جب کہ بہترین مناظر جنوب مغربی امریکا، شمال مغربی میکسیکو اور آسٹریلیا کے اندرونی علاقوں سے دکھائی دیں گے۔ ماہرینِ فلکیات کے مطابق یہ 2026 کا واحد مکمل چاند گرہن ہوگا، جب کہ اگلا ایسا مظہر 31 دسمبر 2028 کو پیش آنے کی توقع ہے۔

مکمل چاند گرہن اس وقت وقوع پذیر ہوتا ہے جب زمین سورج اور چاند کے عین درمیان آ جاتی ہے، جس کے نتیجے میں زمین کا سایہ پوری طرح چاند پر پڑتا ہے. اس دوران چاند کی روشنی بتدریج مدھم ہو جاتی ہے. اور جیسے ہی گرہن مکمل ہوتا ہے تو چاند سرخی مائل ہو کر چمکنے لگتا ہے. — یہی خوبصورت منظر ’’بلڈ مون‘‘ کہلاتا ہے۔ یہ ایک محفوظ فلکیاتی مظہر ہے. جسے ننگی آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے۔
اس چاند گرہن کی خاص بات اس کا "ٹوٹیلٹی فیز” یعنی مکمل گرہن کا مرحلہ ہے. جو 58 منٹ اور 18 سیکنڈ تک جاری رہے گا۔ اگرچہ یہ بعض سابقہ گرہنوں کی طرح گہرا نہیں ہوگا، تاہم مغربی امریکا اور صاف موسم والے. علاقوں کے ناظرین کے لیے. یہ منظر نہایت دلکش ثابت ہو گا۔

دنیا بھر میں


اندازے کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً ڈھائی ارب افراد — یعنی عالمی آبادی کا تقریباً 31 فیصد — اس سرخ چاند کے نظارے سے لطف اندوز ہو سکیں گے. مختلف خطوں میں یہ مظہر درج ذیل اوقات میں دیکھا جا سکے گا:

مشرقی امریکا (EST): صبح 6:04 تا 7:02

وسطی امریکا (CST): صبح 5:04 تا 6:02

پہاڑی علاقہ جات امریکا (MST): صبح 4:04 تا 5:02

مغربی امریکا (PST): صبح 3:04 تا 4:02

الاسکا (AKST): صبح 2:04 تا 3:02

ہوائی (HST): صبح 1:04 تا 2:02

مغربی امریکا اور کینیڈا کے ناظرین کو اس مظہر کا بہترین منظر ملے گا. کیونکہ اس وقت چاند آسمان پر خاصا بلند ہوگا۔ تاہم مشرقی امریکا میں رہنے والے افراد کو مغربی افق صاف دکھائی دینا ضروری ہوگا کیونکہ اس دوران چاند غروب کے قریب ہوگا۔

چمک


چاند گرہن کے دوران نمودار ہونے والی سرخی مائل چمک دراصل ’’رے لی اسکیٹرنگ‘‘ (Rayleigh Scattering) کہلاتے عمل کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اس عمل میں سورج کی روشنی زمین کے ماحول سے گزرتے ہوئے فلٹر ہو جاتی ہے. اور لمبی طول موج والی سرخ روشنی چاند تک پہنچتی ہے. جو اس پر سرخ رنگ بکھیر دیتی ہے۔ رنگ کی شدت فضا میں گرد، دھول یا نمی کی مقدار پر بھی منحصر ہوتی ہے۔
ماہرینِ فلکیات نے عوام سے کہا ہے. کہ وہ اپنے کیلنڈر پر اس نایاب فلکیاتی مظہر کی تاریخ نوٹ کر لیں اور صاف آسمان میں اس دلکش منظر. سے لطف اندوز ہونے کی تیاری کریں۔

تبصرہ کريں

آپکی ای ميل پبلش نہيں نہيں ہوگی.