
فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے پیر کو بتایا کہ پاک بحریہ نے قومی جہازرانی اور سمندری تجارت کو درپیش "کثیرالجہتی خطرات” کا مقابلہ کرنے کے لیے "آپریشن محافظ البحر” کا آغاز کیا ہے۔
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا. کہ یہ فیصلہ خطے کی بدلتی ہوئی. سمندری سیکیورٹی صورتحال اور اہم سمندری راستوں میں ممکنہ رکاوٹوں کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدام قومی توانائی. کی سپلائی کے بلا تعطل تسلسل اور سمندری رابطوں کے راستوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق “پاک بحریہ کے اسکارٹ آپریشنز، پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن. کے ساتھ قریبی تعاون میں انجام دیے جا رہے ہیں۔”
نگرانی اور کنٹرول
بیان میں مزید کہا گیا. کہ “پاک بحریہ موجودہ سمندری حالات سے مکمل طور پر آگاہ ہے اور تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت کی مسلسل نگرانی اور کنٹرول کر رہی ہے. تاکہ ان کے محفوظ اور پُرامن سفر کو یقینی بنایا جا سکے۔”
مزید برآں، بیان میں کہا گیا کہ چونکہ پاکستان کی تقریباً 90 فیصد تجارت سمندر کے ذریعے ہوتی ہے. اس لیے یہ آپریشن اہم سمندری راستوں کو محفوظ، پُراعتماد اور بلا روک ٹوک برقرار رکھنے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق، فی الحال پاک بحریہ کے جہاز دو تجارتی بحری جہازوں کی حفاظت پر مامور ہیں۔
بیان کے اختتام پر کہا گیا. کہ “پاک بحریہ ابھرتے ہوئے سمندری سیکیورٹی چیلنجز کا مؤثر طور پر مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے. اور قومی جہازرانی و علاقائی سمندری سلامتی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔”
