
اسلام آباد: پاکستان نے منگل کے روز 5G اسپیکٹرم کی نیلامی میں 50 کروڑ 70 لاکھ ڈالر مالیت کا اسپیکٹرم فروخت کیا، جس کا مقصد انٹرنیٹ کی رفتار میں بہتری لانا ہے۔
ٹیلی کام آپریٹرز سے توقع کی جا رہی ہے. کہ وہ ابتدائی طور پر اسلام آباد اور چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں 5G خدمات کا آغاز کریں گے، جس کے بعد یہ سہولت ملک کے دیگر علاقوں تک توسیع دی جائے گی۔
گزشتہ اسپیکٹرم نیلامی کے دوران تین ٹیلی کام کمپنیوں — ٹیلی نار، جاز اور زونگ — نے سخت شرائط و ضوابط کے باعث شرکت نہیں کی تھی. جبکہ یو فون واحد کمپنی تھی جس نے حصہ لیا۔
تاہم، اس بار زونگ اور جاز نے بھی نیلامی میں حصہ لیا. اور اسپیکٹرم حاصل کیا، مبینہ طور پر حکومت کی جانب سے زیادہ موزوں شرائط طے کیے جانے کے باعث۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے). نے نئے دور کی موبائل سروسز (NGMS) / 5G کے لیے. اسپیکٹرم نیلامی کا کامیابی سے آغاز کیا، جو ملک کے ڈیجیٹل سفر میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا۔
کچھ ماہرین کا موقف تھا کہ خلیجی خطے. میں جاری کشیدگی. اور ملکی معاشی دباؤ کے پیشِ نظر 5G اسپیکٹرم کی نیلامی کا یہ مناسب وقت نہیں تھا۔
تاہم، مقامی ٹیلی کام انڈسٹری کے عہدیداروں نے حکومت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا. اور کہا کہ نیلامی ضروری تھی کیونکہ انٹرنیٹ کی رفتار. میں کمی صارفین کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔
تیز رفتار انٹرنیٹ
صارفین پُرامید ہیں. کہ اس اقدام سے ملک بھر میں تیز رفتار انٹرنیٹ کی. فراہمی میں بہتری آئے گی۔
البتہ بعض صنعتی ماہرین نے کہا کہ ریاستی نگرانی میں موجود انٹرنیٹ ڈھانچے کو 5G کے آغاز کے باوجود رفتار سے متعلق مسائل درپیش رہ سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا. کہ 5G کے ابتدائی نفاذ سے زیادہ. تر فائدہ بڑی کاروباری کمپنیوں کو ہوگا. جبکہ عام صارف کو انٹرنیٹ کی رفتار میں نمایاں بہتری فوری طور. پر محسوس نہیں ہوگی۔
حکومت نے اس نیلامی. کو ملک کی ڈیجیٹل ترقی کے لیے. ایک بڑا سنگِ میل قرار دیا ہے۔
مجموعی طور پر حکومت نے 480 میگا ہرٹز اسپیکٹرم فروخت کیا، حالانکہ ہدف 597 میگا ہرٹز تھا۔ تین ٹیلی کام آپریٹرز — جاز، زونگ اور یو فون — نے نیٹ جنریشن موبائل سروسز کے اجراء کے لیے. فریکوئنسی حاصل کی۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے مطابق، نیلامی میں 700 میگا ہرٹز بینڈ میں دو لٹس، 2300 میگا ہرٹز بینڈ میں تمام پانچ لٹس، 2600 میگا ہرٹز بینڈ میں تمام 19 لٹس، اور 3500 میگا ہرٹز بینڈ میں 28 میں سے 22 لٹس فروخت کی گئیں، جس سے کل فروخت شدہ اسپیکٹرم 480 میگا ہرٹز رہا۔
اسپیکٹرم کی تقسیم کے لحاظ سے جاز سب سے بڑا خریدار رہا، جس نے مجموعی طور پر 190 میگا ہرٹز حاصل کیے. جن میں 3500 میگا ہرٹز بینڈ میں 50، 2600 میگا ہرٹز میں 70، 2300 میگا ہرٹز میں 50، اور 700 میگا ہرٹز میں 20 میگا ہرٹز شامل ہیں۔
میگا ہرٹز بینڈ
یو فون نے 180 میگا ہرٹز حاصل کیے، جن میں 3500 میگا ہرٹز بینڈ میں 120 اور 2600 میگا ہرٹز بینڈ میں 60 میگا ہرٹز شامل ہیں، جبکہ زونگ نے 110 میگا ہرٹز اسپیکٹرم خریدا۔
وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے بھی تقریب میں شرکت کی اور پاکستان کے مستقبل کے لیے 5G کی معاشی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے حکومت کے اس عزم کو دہرایا کہ ایسی پالیسیوں کو فروغ دیا جائے گا جو ٹیلی کام کے نظام کو مضبوط بنائیں اور پاکستان کو عالمی ڈیجیٹل معیشت میں مسابقت کے قابل بنائیں۔
پی ٹی اے کے چیئرمین نے اس دن کو "پاکستان کے لیے تاریخی اور خوشی کا موقع” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کی ڈیجیٹل تبدیلی کی سمت میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تمام ٹیلی کام آپریٹرز نے نیلامی میں بھرپور حصہ لیا اور مسابقتی قیمتوں کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔
