
ایل منچو کی ہلاکت کے بعد میکسیکو میں انتقامی تشدد کا طوفان؛ فوجی چھاپے میں زخمی ہونے کے بعد موت، کارٹل نے متعدد ریاستوں میں آگ اور روڈ بلاکیڈز سے افراتفری پھیلا دی
میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بوم پر واشنگٹن کی جانب سے سرحد پار فینٹینائل سمیت منشیات کی سمگلنگ روکنے کے لیے مسلسل دباؤ تھا۔ اس پس منظر میں اتوار کو میکسیکن فوج نے جلیسکو ریاست کے قصبے ٹاپالپا. میں ایک بڑے فوجی آپریشن میں جلیسکو نیو جنریشن کارٹل (CJNG) کے سربراہ نیمیسیو روبین اوسیگویرا سروینٹیس. (عرف ایل منچو، 59 سالہ) کو زخمی حالت میں حراست میں لیا۔ زخمی ہونے کے بعد. انہیں میکسیکو سٹی منتقل کرتے ہوئے راستے میں ہی موت ہو گئی۔
میکسیکو کی وزارت دفاع کے مطابق، آپریشن میں امریکی انٹیلی جنس کی مدد حاصل کی گئی تھی۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے سوشل میڈیا پر بیان دیتے ہوئے. کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ اس آپریشن کی کامیابی پر میکسیکو کی فوج کی تعریف کرتی ہے. اور شکریہ ادا کرتی ہے۔ امریکہ نے ایل منچو کے سر پر ایک کروڑ 50 لاکھ ڈالر (تقریباً 15 ملین ڈالر). کا انعام رکھا ہوا تھا۔
سکیورٹی فورسز پر حملے
اس آپریشن کے چند گھنٹوں بعد ہی CJNG کے مسلح کارکنوں نے ملک کے آدھے درجن سے زائد ریاستوں میں شدید انتقامی کارروائیاں شروع کر دیں۔ جلتی گاڑیوں سے شاہراہیں بند کر دی گئیں، دکانیں اور کاروباری مراکز کو آگ لگا دی گئی، اور سکیورٹی فورسز پر حملے کیے گئے۔ حکام کے مطابق، یہ کارروائیاں جلیسکو سمیت دیگر ریاستوں میں ہوئیں، جن میں کم از کم 25 نیشنل گارڈ اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔ اب تک کسی عام شہری کی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔
مشہور سیاحتی مقام پورٹو والارٹا میں سیاحوں نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز شیئر کیں جن میں سیاہ دھوئیں کے بادل آسمان کو ڈھانپے ہوئے نظر آ رہے تھے. اور علاقے کو ‘جنگی میدان’ قرار دیا گیا۔ ایئر کینیڈا، یونائیٹڈ ایئر لائنز، ایرومیکسیکو اور امریکن ایئر لائنز سمیت متعدد ایئر لائنز نے پورٹو والارٹا. اور متاثرہ علاقوں کی پروازیں معطل کر دی ہیں۔
صدر شین بوم نے عوام سے پرسکون رہنے. اور معلومات کی تصدیق کرنے کی اپیل کی ہے. حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارٹل کے خلاف ایک بڑی کامیابی ہے. لیکن انتقامی تشدد کے باعث ملک کے کئی حصوں میں صورتحال کشیدہ ہے۔ امریکی حکام نے اپنے شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت کی ہے۔
