
ماہرین کا انتباہ: بڑھتی ہوئی درجہ حرارت بالآخر رہائشیوں کو نقل مکانی پر مجبور کر سکتی ہے
جیکب آباد، پاکستان کے انتہائی گرم شہروں میں سے ایک، جہاں مزدوروں کے لیے شدید گرمی صرف موسم کا نام نہیں بلکہ روزمرہ کی بقا اور خاندان کی کفالت کی جدوجہد بن چکی ہے۔
شہر میں درجہ حرارت اکثر 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جاتا ہے. جبکہ زیادہ نمی اور مسلسل گرمی انسانی برداشت کی حد کو چیلنج کر دیتی ہے۔
اینٹوں کے بھٹے پر کام کرنے والے نصیر احمد ان حالات سے لڑنے والوں میں شامل ہیں۔ ان کا جسمانی طور پر انتہائی مشقت والا کام گرمیوں کے مہینوں میں مزید دشوار ہو جاتا ہے۔
نصیر احمد نے بتایا، ”بہت گرمی ہے، یہاں تقریباً 50 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ بھٹے سے بھی بہت زیادہ حرارت نکل رہی ہے، انتہائی شدید گرمی ہے۔“
گرمی
انہوں نے مزید کہا، ”ہم اپنے بچوں کو کھلا رہے ہیں۔ یہاں بہت گرمی ہے۔ نہ کوئی امداد ہے نہ تعاون۔ اتنی گرمی میں ہم اپنے بچوں کے لیے. روٹی کیسے کما سکتے ہیں؟ مجبوری ہے، کرنا پڑتا ہے اور گرمی بھی بہت شدید ہے۔“
نصیر احمد کی طرح جیکب آباد کے بہت سے مزدور معاشی مجبوری اور متبادل نہ ہونے. کی وجہ سے شدید گرمی کے باوجود باہر کھلے آسمان تلے کام کرتے رہتے ہیں۔
صحت کے ماہرین نے شدید گرمی کے دوران باہر نکلنے والے. مزدوروں اور عام شہریوں سے احتیاطی تدابیر اپنانے کی اپیل کی ہے۔
ایک مقامی ڈاکٹر نے جیکب آباد کو ایشیا کے انتہائی گرم علاقوں میں شمار کیا اور کہا کہ درجہ حرارت 52 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔
ڈاکٹر نے کہا، ”عوام شدید پریشانی کا شکار ہے اور یہاں کاروبار تباہ ہو چکے ہیں۔“
انہوں نے مزید کہا، ”گرمی کے ان دنوں میں یہ علاقہ رہنے کے قابل نہیں رہتا۔ مستقبل کے عالمی حالات کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ جلد ایسا وقت آئے گا جب یہاں کوئی نہیں رہ سکے گا اور لوگوں کو دوسرے شہروں کی طرف نقل مکانی کرنا پڑے گا۔“
شہر کی تپتی سڑکیں، جلانے والی ہوائیں، پانی کی قلت اور انتہائی موسم موسمیاتی تبدیلی کے انسانی نقصان کی واضح مثال بن چکے ہیں۔
جیکب آباد کے رہائشیوں کے لیے موسمیاتی تبدیلی اب دور کی کوئی سائنسی بحث نہیں رہی۔ یہ ان کی روزمرہ زندگی، روزگار اور مستقبل میں شہر کی رہائش کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش کی حقیقت بن چکی ہے۔
