
لاہور: ایک سیشن عدالت نے منگل کے روز گلوکارہ میشا شفی کو گلوکار و اداکار علی ظفر کو 50 لاکھ روپے کے ہرجانے کی ادائیگی کا حکم دے دیا
عدالت نے اپنے حکم میں کہا. کہ میشا شفی کی سوشل میڈیا پوسٹ اور Instep Today کے انٹرویو میں علی ظفر کے خلاف جھوٹے، ہتک آمیز اور نقصان دہ الزامات لگائے گئے تھے۔ ان الزامات میں جسمانی نوعیت کی جنسی ہراسانی کا دعویٰ کیا گیا تھا، جو ثابت نہیں ہو سکا. اور نہ ہی عوامی مفاد میں کیا گیا تھا، اس لیے یہ قابلِ کارروائی ہتکِ عزت قرار پاتے ہیں۔
عدالت نے نوٹ کیا. کہ علی ظفر کو اپنی ساکھ، وقار اور ذہنی اذیت کے باعث معاوضہ (compensatory damages) ملنے کا حق ہے۔ تاہم، خصوصی ہرجانے (special damages) کا دعویٰ ٹھوس اور قابلِ اعتماد ثبوت سے ثابت نہیں ہو سکا۔
حکم نامے کے مطابق: "لہٰذا، عام ہرجانے کے طور پر مدعی (علی ظفر) کو 50 لاکھ روپے (Rs5,000,000) کا اجراء کیا جاتا ہے، جو مدعا علیہ (میشا شفی) سے وصول کیے جائیں گے۔”
عدالت نے مزید حکم دیا کہ میشا شفی کو مستقل طور پر پابند کیا جاتا ہے. کہ وہ علی ظفر پر جسمانی نوعیت کی جنسی ہراسانی کے مذکورہ ہتک آمیز الزامات کو کسی بھی شکل میں، چاہے پرنٹ، الیکٹرانک یا سوشل میڈیا ہو، دہرانے، شائع کرنے یا شائع کرانے سے باز رہیں۔
کیس کا پس منظر:
علی ظفر نے 2018 میں میشا شفی کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا۔ میشا شفی نے 2018 میں علی ظفر پر متعدد مواقع پر جنسی ہراسانی کے الزامات لگائے تھے۔ علی ظفر نے دعویٰ کیا تھا. کہ ان الزامات سے ان کی عوامی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا اور ان کے خاندان کو شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے عدالت سے میشا شفی پر ایک ارب روپے ہرجانے کا حکم دینے کی استدعا کی تھی۔
گزشتہ ہفتے دونوں فریقوں کے وکلاء نے اپنے حتمی دلائل مکمل کر لیے تھے۔ علی ظفر کی جانب سے ایڈووکیٹ عمر طارق گل نے دلائل دیتے ہوئے. کہا کہ میشا شفی نے جھوٹے الزامات لگائے، جن سے علی ظفر کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا۔ ان کے علاوہ کسی نے بھی علی ظفر پر ایسے الزامات نہیں لگائے۔
میشا شفی کی جانب سے ایڈووکیٹ ثاقب جیلانی نے عدالت سے مقدمہ خارج کرنے کی استدعا کی. اور کہا کہ ہتکِ عزت کے دعوے کی حمایت میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا. کہ میشا شفی نے اپنے الزامات میں یکساں موقف اختیار کیا. اور علی ظفر کے وکلاء کی طویل کراس ایگزامینیشن کے باوجود اپنی بات پر قائم رہیں۔
عدالت نے پیر کے روز سماعت مکمل کی تھی. اور منگل کو فیصلہ سنایا۔ تفصیلی فیصلہ جلد جاری کیا جائے گا۔
